مسجد اقصیٰ کے بارے میں ایک غلط فہمی کا ازالہ
ایک پوسٹ میری نظر میں گذری جس میں مسجد اقصی اور قبۃ الصخرۃ کے بارے میں کنفیوژن پھیلائی جا رہی ہے، جس میں مسجد اقصی کو مسجد قبۃ الصخرۃ سے الگ دکھایا جا رہا یے، اصل بات یہ ہے کہ اکثر لوگوں کو اس بارے میں علم ہی نہیں ہوتا، کیونکہ انہوں نے کبھی مسجد اقصی کا سفر نہیں کیا، الحمدللہ، اللہ تعالی کے فضل وکرم سے اللہ تعالی نے مجھے کئی مرتبہ مسجد اقصی جانے کی سعادت بخشی ہے، اور تواتر کے ساتھ مسجد اقصی جاتا رہتا ہوں۔ وہاں پر جاکر جب ریسرچ کی، وہاں کے علماء، مقامی لوگوں، اور مسجد اقصی کی تاریخ کا علم رکھنے والوں سے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ مسجد اقصی ایک کمپاؤنڈ کا نام ہے، الحمدللہ اس بات کو مینے بڑے اہتمام، وضاحت وشدت کے ساتھ پوری دنیا میں عام کیا، اور اس پروپیگنڈے کو بھی ختم کیا کہ مسجد اقصی صرف مسجد قبلی ہے، قبۃ الصخرۃ مسجد اقصی کا حصہ نہیں ہے، اصل میں اس سے یہودی یہ بیانیہ کیریئڈ کرنا چاہتا کہ آپ مسجد قبلی اپنے پاس رکھیں، اور مسجد قبۃ الصخرۃ جہاں سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم معراج پر تشریف لے گئے تھے اس سے آپ دستبردار ہو جائیں، اور اس سے آپکا کوئی لینا دینا نہیں، لہذا وہ مسجد اقصی کا حصہ نہیں اور وہ ہمارے حوالے کر دی جائے، ہم یہ حصہ رکھ لیتے ہیں اور آپ وہ حصہ رکھ لیں، لیکن مسلمان اس بات کے منکر ہیں، اور شدت سے اسکی نفی کرتے ہیں، کیونکہ مسجد اقصی ایک کمپاؤنڈ کا نام ہے، جس میں پانچ مسجدیں ہیں، مینے مسجد اقصی کی اپنی ڈاکومنٹری میں اس کی خوب نشاندھی اور وضاحت کی ہے، جو حضرات میری ڈاکومنٹریز دیکھتے رہتے ہیں ان کی نظروں سے یہ چیز ضرور گزری ہوئی ہو گی۔ اور بار بار میں اس چیز کی نشاندہی بھی کرتا ہوں، تاکہ مسلمانوں کو یہ بات ذہن نشین ہوجائے، ایک مفتی صاحب نے ایک پوسٹ میں مسجد اقصی اور مسجد قبۃ الصخرۃ کو الگ الگ دکھایا ہے جو انتہائی غلطی اور عدم معلومات کی نشاندھی کرتی ہے، اور مجھے یقین ہے کہ آج تک انہوں نے مسجد اقصی دیکھی بھی نہیں ہوگی، نا اس حوالے سے اس کی کوئی ریسرچ ہوگی، تو بغیر کسی تحقیق اور ریسرچ کے کسی چیز کو آگے نہیں پھیلانا چاہیے۔ اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم غلط بات کو عام کر رہے ہوں؟
*✍🏻 مفتی عبدالوہاب*
Comments
Post a Comment